Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 715

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ان آیتوں میں نور (روشنی) کے دوڑنے کا ذکر لفظی طور پر دوڑنے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ پھیلنے کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اُن کا نور دور دور تک پھیلا ہوا ہوگا۔ مزید یہ کہ نور کا لفظ سادہ طور پر روشنی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اس معنی میں ہے کہ ان کے عمل کا روحانی حصہ (spiritual content) جو دنیا میں اعلیٰ داخلی تجربے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ آخرت میں متشکل (materialised) ہو کر خارجی طور پر دکھائی دینے لگے۔ بہ الفاظ دیگر، جو چیز دنیا کی زندگی میں صرف غیر مرئی نور کی حیثیت رکھتی تھی، وہ آخرت میں قابلِ مشاہدہ اسپرپچول تہذیب کی صورت اختیار کرلے گی۔ مادی تہذیب جس طرح دنیا میں قابلِ مشاہدہ ہے، اسی طرح اسپرپچول تہذیب آخرت میں قابلِ مشاہدہ ہو جائے گی۔ مذکورہ آیت میں ’أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ‘ کا لفظ نہایت اہم حقیقت کو بتا رہا ہے۔ اس آیت میں اجر سے مراد جنت کی مادی نعمتیں ہیں اور نور سے مراد وہ تہذیب ہے جو جنت میں ایک روشن واقعہ بن جائے۔ اہل جنت ایک طرف لَکُمْ فِیهَا مَا تَشْتَهِیهِ أَنْفُسُکُمْ کے مصداق، جنت کی اعلیٰ نعمتوں سے محظوظ ہوں گے اور دوسری طرف یہ ہوگا کہ ان کے اندر داخلی سطح پر پیدا ہونے والی ربانی کیفیات جو دنیا میں غیر مرئی حقیقت بنی ہوئی تھیں، آخرت میں وہ قابلِ مشاہدہ نور کی صورت میں نمایاں ہوجائیں گے۔ آخرت میں ظاہر ہونے والے اس واقعے کو نورانی تہذیب یا اسپرپچول تہذیب کے الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مذکورہ آیت میں اہل جنت کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوا ہے: ’أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا‘ — یعنی، ہماری روشنی کو کامل کردے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو نے ہمیں جس اعلیٰ ربانی تجربے کی توفیق دی، وہ دنیا میں غیر مرئی بنا رہا۔ اب آخرت میں تو ہمارے ساتھ یہ مزید احسان فرما کہ ان داخلی ربانی تجربات کو خارجی واقعے کی صورت میں ظاہر کردے۔ جس طرح مادہ پرست انسان کی داخلی دریافت خارجی پر دنیا میں مادی تہذیب کی صورت میں متشکل ہوئی تھی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page