زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 716
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح اب تو آخرت میں ہماری داخلی ربانی دریافتوں کو خارجی طور پر نورانی تہذیب یا اسپر پچول تہذیب کی صورت میں متشکل کر دے۔ یہی مطلب ہے مذکورہ آیت میں اتمامِ نور کا۔ آئریا کا متشکل ہونا خواہ مادی تہذیب کا معاملہ ہو یا اسپر پچول تہذیب کا معاملہ، دونوں کی نوعیت اس اعتبار سے یکساں ہے۔ دونوں کا وقوع ابتداءً ایک غیر مرئی آئیڈیا (invisible idea) کی صورت میں ہوتا ہے، بعد کو وہ خارجی صورت میں متشکل ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ مادی تہذیب کا بھی ہے اور یہی معاملہ اسپر پچول تہذیب کا بھی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مائیکل فریڈے (Michael Faraday, d. 1867) ایک برٹش سائنس داں تھا۔ کچھ تجربات کے دوران اُس کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا، جواب اصلاحی طور پر الیکٹرو میگنٹزم (electromagnetism) کے طور پر معروف ہے۔ یہ آئیڈیا فطرت کے اُس قانون کے بارے میں تھا جس کو الیکٹری سٹی (electricity) کہا جاتا ہے۔ اس آئیڈیا کے تحت یہ فارمولا بنایا گیا کہ بجلی کا مطلب ہے ۔ الیکٹران کا بہاؤ : Electricity means flow of electrons. وہ چیز جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فطرت کے دو قوانین کا نام ہے ۔ روشنی (light) اور حرکت (motion)۔ فطرت کے ان دو غیر مرئی قوانین نے جب عملی صورت اختیار کی تو اس کے نتیجے میں وہ مرئی ظاہر وجود میں آیا جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ اسپر پچول تہذیب کا بھی ہے۔ اسپر پچول تہذیب ابتداء ایک مخفی واقعے کی صورت میں ایک بندہ مومن کے سینے میں غیر مرئی طور پر وجود میں آتی ہے۔ اسپر پچول تجربہ کیا ہے، اس کو قرآن کی ان آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جا سکتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165) ۔ یعنی، وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے، وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ (9:18) ۔ یعنی، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے، هِمَّّاً عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83) ۔ یعنی، اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader