Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 717

By Maulana Wahiduddin Khan

سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا، وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ (60: 23)۔ یعنی، اور ان کے دل کانپتے ہیں، فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ (52:26)۔ یعنی، اپنے گھر والوں میں ڈرتے رہتے تھے، لاَ تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40)۔ یعنی، غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے، وغیرہ۔ مذکورہ حوالے ایک مومن کے سینے میں پیدا ہونے والے اسپرچول تموجات کو بتاتے ہیں۔ یہ اسپرچول تموجات (spiritual waves) اپنی حقیقت کے اعتبار سے بلاشبہ ہمالیائی تموجات تھے، لیکن دنیا کی زندگی میں وہ غیر مرئی واقعہ بن کر رہ گئے۔ یہ خدا کی شان رحمت کے خلاف ہے کہ ایک سائنس داں کی مادی معرفت تو مادی تہذیب کی صورت میں متشکل ہو، لیکن ایک مومن کی ربانی معرفت محسوس اسپرچول تہذیب کی صورت میں متشکل نہ ہو۔ قرآن کے مذکورہ بیانات اسی سوال کا جواب ہیں۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سائنس دانوں کی مادی معرفت خارجی طور پر متشکل ہو کر دنیا میں مادی تہذیب کی صورت میں ظاہر ہوئی، اسی طرح آخرت میں مزید اضافے کے ساتھ یہ ہوگا کہ مومن بندوں کی ربانی معرفت، جو دنیا میں غیر مرئی تھی، وہ آخرت میں خارجی طور پر متشکل ہوگی۔ اسی واقعے کو قرآن میں نورانی ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی واقعے کا دوسرا نام آخرت کی ابدی دنیا میں بننے والی اسپرچول تہذیب ہے۔ دو قسم کے چہرے قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ قیامت میں انسانوں کو چھانٹ کر الگ کیا جائے گا، اہل جنت الگ اور اہل جہنم الگ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ (3:106)۔ یعنی، جس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے، تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، اُن سے کہا جائے گا کہ کیا تم اپنے ایمان کے بعد منکر ہو گئے، تو اب چکھو عذاب اپنے کفر کے سبب سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page