Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 718

By Maulana Wahiduddin Khan

”روشن چہرہ“ سے مراد کیا ہے۔ اس سے مراد وہی روشن شخصیت ہے جس کی وضاحت اس سے پہلے ہو چکی ہے۔ ”سیاہ چہرہ“ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے چہروں پر سیاہ رنگ لگا دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی داخلی برائی ظلمت بن کر ان کے چہرے پر نمایاں ہو جائے گی۔ جس غیر ربانی شخصیت کو وہ اپنی جھوٹی تدبیروں سے اپنے اندر چھپائے ہوئے تھے، وہ ظاہر ہو کر لوگوں کو محسوس طور پر دکھائی دینے لگے گی۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے، یہ وہی بات ہے جو دنیا کی زندگی میں بھی جزئی طور پر مشاہدات میں آتی ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے کہ : Face is the reflection of one's inner personality. دنیا کی زندگی میں برے لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ اندر سے بالکل غیر سنجیدہ تھے، مگر اوپر سے وہ اپنے آپ کو سنجیدہ ظاہر کرتے تھے۔ وہ جھوٹ اور بددیانتی پر کھڑے ہوئے تھے، لیکن خوب صورت الفاظ کے ذریعے وہ اپنی حقیقت پر پردہ ڈالے ہوئے تھے۔ دل اور دماغ کے اعتبار سے، وہ صرف ایک دنیا پرست انسان تھے، لیکن اپنے ظاہر فریب رویے سے وہ آخرت پسندی کے اسٹیج پر پُر رونق جگہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ قیامت کے بعد جو آخرت کی دنیا آئے گی، وہاں تمام حقیقتیں اپنی اصل صورت میں ظاہر ہو جائیں گی۔ وہاں ہر عورت اور مرد اپنی اصل داخلی صورت میں نمایاں ہو جائے گا۔ یہی مطلب ہے قیامت میں چہروں کے سیاہ ہونے کا۔ برے لوگ وہاں اس طرح اٹھیں گے کہ ان کے چہروں پر سخت قسم کی حسرت اور ندامت چھائی ہوئی ہوگی۔ وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہوں گے۔ ان کا احساس محرومی ان کے پورے وجود کو بے قیمت بنائے ہوئے ہوگا۔ اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں ان کی کامل مایوسی کی بنا پر ان کا احساس یہ ہوگا کہ وہ حیوان سے بھی زیادہ بے قیمت ہیں۔ ان کی بے بسی کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپانا چاہیں گے، لیکن وہاں انھیں کوئی جگہ نہیں ملے گی جہاں وہ اپنے آپ کو چھپا لیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page