Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 719

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کا معاشرہ جنت کے معاشرے میں وہ خوش قسمت افراد جگہ پائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنتی شخصیت کی حیثیت سے تیار کیا ہوگا۔ جنتی شخصیت کا لفظ کوئی پراسرار لفظ نہیں ہے۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جو انتہائی معنوں میں بلند فکری (high thinking) کے مالک ہوں۔ یہی وہ اعلیٰ کردار ہے جس کو قرآن میں خُلُقِ عظیم (68:4) یا مزکی شخصیت (20:76) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اعلیٰ شخصیت والا انسان کون ہے، یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہر قسم کے دنیوی محرکات (worldly motivations) سے اوپر اٹھایا، جس نے اپنے آپ کو کامل طور پر متعصّبانہ فکر (biased thinking) سے پاک کیا، جس نے اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے بچایا، جس نے اپنے اندر اُس انسان کی تعمیر کی جس کو کا مپلکس فری سول (complex free soul) کہا جاتا ہے، جس نے دنیا کی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ وہ انٹیگریٹڈ پرسنالٹی (integrated personality) کا حامل انسان ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جن سے متصف افراد کو ایک لفظ میں، ربانی انسان کہا جاسکتا ہے۔ انھیں صفات کے حامل افراد کو جنت میں آبادکاری کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ جنتی شخصیت کی تعمیر مذکورہ اعلیٰ ربانی صفات پیدا کرنے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ صبر ہے۔ صبر کے ذریعے آدمی اس قابل بنتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے غیر موافق احوال کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ منفی اسباب کے اندر اپنی مثبت سوچ کو مستقل طور پر برقرار رکھے۔ وہ مسائل کو عذر (excuse) نہ بناتے ہوئے اپنا ربانی سفر جاری رکھے۔ اسی بنا پر قرآن میں کہا گیا ہے کہ صبر کرنے والے جنت کے اعلیٰ مقامات میں جگہ پائیں گے۔ (25:75)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page