زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 720
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کی اسی اہمیت کی بنا پر صبر کو اعلیٰ ترین انعام کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ہر عملِ خیر کی لازمی بنیاد ہے۔ اسی لیے قرآن میں صبر کرنے والوں کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ یعنی، بے شک صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ جسمانی سرگرمیاں، ذہنی سرگرمیاں انسانی تاریخ کی تصویر اگر یہ ہو کہ اس میں انسان کے جسم (body) کی سرگرمیاں (activities) تو خوب بیان ہوئی ہوں، مثلاً پہلوانی (wrestling) اور باکسنگ (boxing) جیسی سرگرمیاں تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کی گئی ہوں، لیکن انسان کے وجود کا دوسرا اہم تر حصہ جس کو ذہن (mind) کہا جاتا ہے، اس کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہو، پوری تاریخ میں انسان کی ذہنی سرگرمیاں (intellectual activities) غیر مذکور (unrecorded) ہو کر رہ جائیں تو ایسی انسانی تاریخ کو نہ صرف نامکمل، بلکہ آخری حد تک بے معنی (meaningless) کہا جائے گا۔ یہ فرضی بات نہیں، بلکہ یہ انوکھا واقعہ عملاً مزید اضافے کے ساتھ پوری دنیا میں پیش آیا ہے۔ وہ اس طرح کہ انسان کی مادی سرگرمیاں مادی تہذیب کی صورت میں متشکل (materialized) ہو کر اپنی پوری صورت میں لوگوں کے سامنے موجود ہیں۔ مادی تہذیب کو ہر آدمی جانتا ہے اور ہر آدمی اس کو دیکھ رہا ہے۔ مادی تہذیب ہر آدمی کے لیے ایک معلوم واقعہ ہے۔ لیکن انسانی سرگرمیوں کی ایک اور قسم ہے۔ اس کو اسپرچول سرگرمیاں (spiritual activities) کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سرگرمیاں ہیں جو انفرادی سطح پر سچے انسانوں کی زندگی میں پیدا ہوئیں۔ وہ پوری طرح غیر مرئی (unobservable) تھیں۔ افراد کی داخلی زندگی میں مکمل طور پر موجود ہونے کے باوجود وہ ظاہری طور پر کبھی متشکل نہیں ہوئیں۔ مثلاً تاریخ کے ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوتے رہے جنھوں نے خدا کو اپنا سول کنسِرن (sole concern) بنایا، جن کی سوچ تمام تر سچائی اور دیانت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader