Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 721

By Maulana Wahiduddin Khan

داری مبنی تھی، جنھوں نے دنیا کے بجائے آخرت کو اپنی توجہات کا مرکز بنایا، جن کی آخری آرزو تھی کہ اُن کو جنت میں داخلہ ملے، جنھوں نے خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کو سمجھا اور ان سے تجاوز نہیں کیا، جن کا ربانی شعور اتنا بڑا ہوا تھا کہ وہ ہر وقت داخلی طور پر توبہ واستغفار میں مشغول رہتے تھے۔ یہ تمام اعمال انتہائی اعلیٰ اعمال ہیں، لیکن وہ ہمیشہ کیفیات کی سطح پر پیدا ہوتے ہیں۔ اُن کو کمیاتی اصطلاح (quantitative term) میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ربانی اعمال یا اسپرچول سرگرمیاں افراد کی داخلی دنیا میں پیدا ہوئیں اور پھر افراد کی موت کے ساتھ بظاہر ختم ہوگئیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ اعلیٰ اسپرچول تہذیب کی حیثیت رکھتی تھیں، مگر اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود وہ کبھی ظاہری طور پر متشکل نہیں ہوئیں جس طرح مادی تہذیب اپنی ظاہری صورت میں متشکل ہوئی۔ آخرت کی دنیا جو قیامت کے بعد آئے گی، وہ اسی کی تلافی اور تکمیل کے لیے ہے۔ قیامت ایک طرف مادی تہذیب کو پوری طرح نابود کردے گی، اگلے مرحلہ حیات میں اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا، دوسری طرف یہ ہوگا کہ آخرت کے موافق ماحول میں ماضی کے اسپرچول واقعات پوری طرح متشکل ہوکر ایک اسپرچول تہذیب کی صورت اختیار کر لیں گے۔ یہ اسپرچول تہذیب ایک ابدی تہذیب ہوگی۔ قیامت سے پہلے کے دور تاریخ میں دونوں قسم کے افراد باہم ملے ہوئے تھے، لیکن قیامت کے بعد کے دور تاریخ میں دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا (27:83)۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے مطابق، قیامت سے پہلے کا دور حیات انفرادی اعتبار سے تعمیر شخصیت کا دور تھا، وہ اجتماعی اعتبار سے تعمیر تہذیب کا دور نہ تھا۔ آخرت کی دنیا میں یہ ہوگا کہ جن افراد نے اپنی شخصیت کی تعمیر نہ کی، وہ رد کر دیے جائیں گے اور جن افراد نے اپنی شخصیت کی تعمیر کی، وہ خدا کے مطلوب بندے ٹھہریں گے۔ ایک گروہ کا کیس کامیابی کا کیس ہوگا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page