Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 722

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے گروہ کا کیس ناکامی کا کیس (42:7)۔ قرآن میں دونوں قسم کے افراد کو مختلف لفظوں میں بیان کیا گیا ہے، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کامیاب افراد روشن چہروں (bright faces) والے ہوں گے اور ناکام افراد سیاہ چہروں (dark faces) والے۔ کامیاب افراد ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی پائیں گے اور ناکام افراد ابدی طور پر حسرت کی آگ میں جلتے رہیں گے۔ خاتمہ کلام اللہ کو مطلوب تھا کہ اسپرچول تہذیب کا تسلسل دنیا کے آغاز سے لے کر اس کے خاتمے تک جاری رہے۔ اللہ نے دیکھا کہ انسان کو دی گئی آزادی کی بنا پر یہ تسلسل مجموعے کی سطح پر جاری نہیں ہوسکتا، اس لیے اللہ نے اس کو افراد کی سطح پر جاری کر دیا۔ چناں چہ انسانی مجموعے کی سطح پر اگرچہ اسپرچول تہذیب کا تسلسل جاری نہیں ہے، لیکن افراد کی سطح پر یہ تسلسل مکمل طور پر جاری ہے۔ اس سلسلے کا پہلا فرد غالباً ابتدائی دور کا ہبیل ابن آدم تھا، جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے (5:27) اور اس سلسلے کا آخری فرد غالباً دورِ آخر کا وہ رجل مومن ہوگا جس کا ذکر صحیح مسلم کی ایک روایت میں آیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) انسان کی آزادی کی بنا پر اس دنیا میں اسپرچول تہذیب کا اجتماعی تسلسل عملاً ممکن ہے، لیکن اسپرچول تہذیب کا انفرادی تسلسل پوری طرح ممکن ہے اور بلاشبہ وہ ہر دور میں اور ہر زمانے میں جاری رہا ہے۔ اسپرچول تہذیب کے عملی ظہور کے معاملے کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ ایک وسیع کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں آپ کے سامنے کی میز پر ایک ٹی وی سیٹ رکھا ہوا ہے۔ بظاہر کمرے میں صرف کچھ مادی چیزیں ہیں۔ مثلاً دیوار، کرسی، میز، وغیرہ۔ ان چیزوں کو آپ دیکھ رہے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ وہاں ایک اور چیز ہے جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی، مگر وہ مکمل طور پر موجود ہے۔ یہ دوسری چیز غیر مرئی لہروں (invisible waves) کی صورت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page