زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 723
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اس غیر مرئی دنیا میں زندہ انسان ہیں، آوازیں ہیں اور مختلف قسم کی عملی سرگرمیاں ہیں، لیکن بظاہر وہ مکمل طور پر غیر مرئی ہیں۔ اس کے بعد آپ اپنے ٹی وی سیٹ کو آن کرتے ہیں تو اچانک اسکرین پر ایک پوری دنیا نظر آنے لگتی ہے، جو اُسی طرح کامل اور با معنی ہے جس طرح ٹی وی سیٹ کے باہر کی دنیا۔ اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اسپرچول تہذیب کیا ہے۔ وہ کس طرح آج بظاہر غیر موجود ہے اور آخرت کی دنیا میں وہ مکمل طور پر موجود ہو جائے گی۔ آخرت میں پیش آنے والا یہی وہ واقعہ ہے جس کے ایک پہلو کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدْتُمْ عَلَيْنَا قَالُوا أَنْطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (21: 41) ۔ یعنی، اور وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے، تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی۔ وہ کہیں گے کہ ہم کو اسی اللہ نے گوبائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔ اور اسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اسی کے پاس تم لائے گئے ہو۔ آخرت میں اسپرچول تہذیب کے عملی ظہور کا واقعہ قدیم زمانے میں صرف ایک عقیدے کی حیثیت رکھتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں ٹیلی ویژن کی ایجاد گویا کہ اس معاملے کا ایک پیشگی مظاہرہ ہے۔ ٹیلی ویژن کی ایجاد نے اسپرچول تہذیب کے عملی ظہور کو مشاہداتی سطح پر قابل فہم (understandable) بنا دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader