زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 724
By Maulana Wahiduddin Khan
جنتی تہذیب قرآن کی سورہ یاسین میں اہل جنت کے ذکر کے تحت یہ الفاظ آئے ہیں : إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فَٰكِهُِونَ (36:55) ۔ یعنی، بے شک، اہل جنت آج ایک عظیم مشغلے میں ہوں گے ، خوش ہر آئینہ اہل بہشت امروز درکارے باشند، شاداں: Surely the dwellers of Paradise shall on that day be in an occupation quite happy. آخرت میں سچے اہل ایمان کو جنت میں داخلہ ملے گا۔ وہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں کی زندگی گزاریں گے ۔ جنت ہر اعتبار سے، پرفیکٹ (perfect) ہوگی ۔ وہاں ہر اعتبار سے، اہل جنت کے لیے فل فل منٹ (fulfilment) کا سامان ہوگا۔ وہاں اہل جنت نہ کبھی حزن کا شکار ہوں گے اور نہ وہ کبھی اکتاہٹ (boredom) میں مبتلا ہوں گے۔ تاہم جنت صرف آرام وعیش کی جگہ نہ ہوگی ، بلکہ اسی کے ساتھ وہ اہل جنت کے لیے ایک اعلیٰ ترین سرگرمی کا مقام ہوگا۔ مذکورہ آیت میں اس حقیقت کو بتانے کے لیے 'شغل‘ کا لفظ آیا ہے۔ شغل کے لفظی معنی مشغلہ (activity) کے ہیں۔ شغل کا لفظ اس آیت میں نکرہ استعمال ہوا ہے۔ نحوی قاعدے کے مطابق ، تنکیر برائے تفخیم ہوتی ہے ۔ اس لیے یہاں شغل سے مراد ہے ایک عظیم مشغلہ۔ اس عظیم مشغلہ سے کس قسم کا مشغلہ مراد ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی مشغلہ ہے جو دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے عظیم مشغلہ تھا۔ یہی مشغلہ بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ آخرت میں بھی ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس مشغلہ کو دنیا میں قوانین فطرت کی دریافت (discovery of natural laws) کہا جاتا ہے، اسی کو قرآن میں کلمات اللہ (31:27)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader