زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 725
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا گیا ہے ۔ دنیا میں کلمات اللہ کی دریافت ابتدائی طور پر ہوئی تھی۔ آخرت میں دوبارہ ’کلمات اللہ‘ کی دریافت ابدی طور پر اور غیر مختتم طور پر جاری رہے گی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات ناقابلِ قیاس حد تک زیادہ ہیں ، اتنے زیادہ کہ اگر اُن کو لکھا جائے تو وہ ضبط تحریر میں نہ آسکیں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ؤَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31:27)۔ یعنی ، اگر زمین میں جو درخت ہیں ، وہ قلم بن جائیں اور سمندر ، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں ، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے ۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے۔ ’کلماتِ اللہ‘ کا لفظی مطلب ہے اللہ کی باتیں (words of God) ۔ اللہ کا کلمہ سادہ طور پر صرف کلمہ نہیں ہوتا ، وہ ایک محکم فیصلہ یا اٹل قانون ہوتا ہے۔ کلماتِ اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مختلف مقامات پر ’امر رب‘ یا ’امر اللہ‘ کہا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ، اس کو قوانین الہیہ (divine laws) کہا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اہل سائنس اِس واقعے کو قوانینِ فطرت (laws of nature) کہتے ہیں۔ یہی قوانین الہیہ یا قوانین فطرت ہیں جن کی بنیاد پر کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہی قوانین ہیں جن کے تحت نہایت محکم انداز میں کائنات کا پورا نظام مسلسل طور پر چل رہا ہے۔ یہی قوانین انسان کے لیے اس کی تمام فکری اور عملی ترقیوں کا ماخذ ہیں۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان معرفت حاصل کرتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان تخلیق کی معنویت کو دریافت کرتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان اللہ کی عظمت (glory) سے آشنا ہوتا ہے۔ انھیں قوانین میں تدبر کر کے انسان کے اندر وہ صفات پیدا ہوتی ہیں جن کو اللہ کے لیے حبِ شدید اور خوفِ شدید کہا جاتا ہے۔ انھیں قوانین پر تدبر کر کے آدمی اپنے اندر وہ ربانی شخصیت پیدا کرتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ قوانین الہیہ اتنی زیادہ تعداد میں ہیں کہ انسان ابد تک اُن میں تدبر کرتا رہے اور وہ کبھی ختم نہ ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader