Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 726

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی قوانین یا قوانینِ فطرت ہی تمام علوم کا خزانہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں جس ظاہر ہے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے، وہ انھیں قوانین الہیہ یا قوانین فطرت کی جزئی دریافت کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ سائنس کے علوم تمام تر انھیں قوانین میں غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں۔ یہی قوانین، حکمت (wisdom) کا خزانہ ہیں۔ حقیقت ہے کہ ان قوانین کے ساتھ انسان انسان ہے۔ اگر ان قوانین کو انسان سے جدا کر دیا جائے تو انسان صرف ایک حیوان بن کر رہ جائے گا۔ جو چیز انسان کو انسان بناتی ہے، وہ اس کی صرف یہ خصوصیت ہے کہ وہ فطرت کے قوانین کو دریافت کرکے اُن کو اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ امریکی مصنف الون ٹافلر (Alvin Toffler) کی ایک کتاب 'فیوچر شاک' (Future Shock) ہے، جو پہلی بار 1970 میں امریکا سے شائع ہوئی۔ اس نے اس کتاب میں کہا تھا کہ ہمارا انڈسٹریل ایج (industrial age) مزید ترقی کرکے اب سپر انڈسٹریل ایج (super industrial age) میں داخل ہونے والا ہے۔ مغربی مصنف نے اپنی یہ پیشین گوئی بیسویں صدی میں کی تھی، لیکن صدی کے آخر میں اس کا یہ خواب منتشر ہوگیا۔ ماحولیاتی مسائل (ecological problems) نے بتایا کہ زمین پر انسانی تہذیب کی آخر حد آچکی ہے۔ اس زمین پر انسانی تہذیب کا سفر مزید آگے جاری رہنے والا نہیں۔ تہذیب کیا ہے۔ تہذیب تمام تر قوانین فطرت پر مبنی ایک ظاہر ہے ۔ قوانین فطرت سے الگ تہذیب کا کوئی وجود نہیں۔ جب یہ واقعہ ہے کہ قوانین الہیہ یا قوانین فطرت کی کوئی حد نہیں تو لازمی طور پر یہ بھی ہونا چاہیے کہ تہذیب کی ترقی کی کوئی حد نہ ہو، تہذیب کی ترقی کا سفر ابدی طور پر جاری رہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن ہم کور رہنمائی دیتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب انسانی کا سفر موجودہ دنیا کے دور حیات میں ختم نہ ہوگا، بلکہ وہ مزید ترقی کے ساتھ زیادہ اعلیٰ صورت میں آخرت کے ابدی دور حیات میں جاری رہے گا۔ قرآن میں یہ بات، نعوذ باللہ، بطور بوسٹنگ (boasting) نہیں ہے، بلکہ وہ بطور پیشین گوئی ہے، یعنی اس قرآنی بیان میں دراصل یہ اعلان کیا گیا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page