زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 727
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب کا نامکمل سفر اپنی تکمیل کو پہنچے۔ موجودہ دنیا میں ’کلمات اللہ‘ کا جو اظہار جزئی صورت میں ہوا ہے، آخرت کی دنیا میں اس کا اظہار کامل صورت میں ہوگا۔ قرآن یہ خوش خبری دیتا ہے کہ انسانی تہذیب کا سفر ادھورا نہیں رہے گا، بلکہ وہ مزید ترقی کے ساتھ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ارتقا کا جو موقع انسان کو حیات دنیا میں نہیں ملا تھا، وہ آخرت کی زندگی میں مزید اضافے کے ساتھ اس کو حاصل ہو جائے گا۔ تہذیب کے دو دور تہذیب کے دو دور جن کا ذکر اوپر کیا گیا، اُن کا حوالہ قرآن میں صراحتاً موجود ہے۔ تہذیب کا پہلا دور جو قوانین فطرت کی جزئی دریافت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ظہور میں آئے گا، اس کا ذکر قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں (signs) دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح آشکارا ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ قرآن کی اِس آیت میں قوانین الہیہ پر مبنی تہذیب کے اُس دور کا ذکر ہے جو موجودہ دنیا میں پیش آنے والا تھا۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سائنس کے ظہور کی صورت میں واقعہ بن چکی ہے۔ سائنس کی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ آفاق وانفس میں جو خدائی نشانیاں (signs of God) موجود تھیں، اُن کو جزئی طور پر دریافت کیا اور اس طرح انسان کے لیے تبیین حق کے نئے مواقع کھول دیے ۔ ان دریافتوں کے ذریعے انسان کو ایک نیا فریم ورک (framework) ملا۔ اس کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ انسان خالص علمی اور عقلی سطح پر اللہ کی معرفت حاصل کرے۔ قوانین الہیہ پر مبنی تہذیب کا دوسرا عظیم تر ظہور آخرت کے دور حیات میں پیش آئے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader