زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 728
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب کے اِس دوسرے دور کو ربانی تہذیب کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور اپنے تمام کمالات کے ساتھ ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اِس دوسرے دور تہذیب کا ذکر قرآن کی سورۃ الکہف میں اِن الفاظ میں آیا ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ اَمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خَالِدِيْنَ فِيْهَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا (18:107-109)۔ یعنی، بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عملِ صالح کیا، اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے۔ اِس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے نکلنا نہ چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا، اِس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کی مانند اور سمندر ملا دیں۔ قرآن کی ان آیات پر غور کیجیے۔ سب سے پہلے فرمایا کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عملِ صالح کیا“، یعنی جن لوگوں نے دریافت کی سطح پر اللہ کی معرفت حاصل کی اور پھر اس معرفت کے مطابق، اپنی عملی زندگی کو ربانی زندگی بنا دیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ”اُن کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے“، یعنی آخرت میں اُن کو اللہ کے آفاقی گیسٹ ہاؤس (universal guesthouse) میں ابدی طور پر رہنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ”اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہ وہاں سے نکلنا نہ چاہیں گے۔“ انسان کا مزاج یہ ہے کہ اگر اس کو یکساں قسم کی مادی نعمتیں دی جائیں تو یہ نعمتیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، کچھ دنوں کے بعد وہ ان کی یکسانیت کی بنا پر بورڈم (boredom) کا شکار ہو جائے گا، وہ اُن سے محظوظ نہ ہو سکے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ”وہ جنت سے نکلنا نہ چاہیں گے“۔ اس طرح کی کیفیت پیدا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اہل جنت کو مادی نعمتوں کے سوا ایک اور چیز حاصل ہو اور وہ ہے ــــ بار بار نئی چیزوں کا ملنا، بار بار نئی دریافتوں کا تجربہ پیش آنا، مسلسل طور پر فکر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader