زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 729
By Maulana Wahiduddin Khan
ی ارتقا کا جاری رہنا جن کی بنا پر اہل جنت کی تخلیقیت (creativity) کبھی ختم نہ ہوگی۔ اہل جنت کی شخصیت میں یہ ارتقا معرفت خداوندی میں ارتقا کے ذریعے پیش آئے گا۔ جنت میں تخلیقی سرگرمیوں (creative activities) کے جو اتھاہ مواقع ہوں گے ، اُن کو آیت کے اگلے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے اہل جنت کے ذریعے ’کلمات اللہ‘ کی ابدی ان فولڈنگ (eternal unfolding)۔ قرآن کے مطابق، ’کلمات اللہ‘ کی تعداد لامحدود ہے۔ سائنس کے ذریعے ان ’کلمات اللہ‘ کا جزئی ظہور (partial unfolding) ہوا، جس کے نتیجے میں دنیا کی تہذیب وجود میں آئی۔ آخرت میں اہل جنت کے ذریعے ’کلمات اللہ‘ کا کامل ظہور ہوگا۔ اس کے نتیجے میں وہ دورِ کمال وجود میں آئے گا جس کو جنتی تہذیب کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان جو یہاں پیدا ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو تیاری میں لگا دیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے اندر کسی نہ کسی شعبے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر آدمی آخری حد تک یہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی خاص ہنر مندی (skill)، کوئی خاص لیاقت (qualification)، کوئی خاص مہارت (expertise) پائی جائے، تاکہ وہ موجودہ دنیا میں قائم شدہ تہذیب کے نقشے میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کر سکے۔ ہر عورت اور مرد زندگی کی اس حقیقت کو جانتے ہیں اور اس کے لیے پوری طرح سرگرم رہتے ہیں۔ یہی معاملہ آخرت میں بننے والی بلند تر تہذیب کا ہے۔ وہاں بھی سرگرمیاں ہوں گی، وہاں بھی مناصب ہوں گے ، وہاں بھی ہر قسم کے اعلیٰ شعبے ہوں گے۔ جنتی دنیا کے ان اعلیٰ مواقع کو حاصل کرنے کے لیے بھی تیار ذہن اور تربیت یافتہ افراد درکار ہیں۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے، اِسی اعلیٰ تیاری کی تربیت گاہ ہے۔ موجودہ دنیا کے حالات میں لوگوں کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر وہ ربانی صلاحیت پیدا کریں جو اُن کو اس قابل بنائے کہ وہ آخرت میں بننے والی برتر تہذیب کے مناصب کے لیے منتخب کیے جاسکیں اور پھر ابدی طور پر نہ صرف آرام و عیش کی زندگی گزاریں، بلکہ ایک ایسے تہذیبی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader