Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 730

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر کا حصہ بن جائیں جس کی ترقیاں کبھی ختم نہ ہوں۔ یہ لامحدود خوشی (endless pleasure) کی زندگی ہوگی، جو اللہ کی خصوصی رحمت سے اہل جنت کو حاصل ہوگی۔ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو عزت کا مقام ملتا ہے، وہ اس بنیاد پر ملتا ہے کہ اس نے تہذیب کے تقاضوں کے مطابق، اپنے آپ کو کتنا تیار کیا ہے۔ یہی معاملہ آخرت کی جنتی تہذیب میں بھی ہوگا۔ موجودہ دنیا کی تہذیب میں ہر آدمی کو ڈاکٹر، انجینئر، اسکالر اور ٹیکنکل ایکسپرٹ، وغیرہ کی نسبت سے مقام ملتا ہے۔ آخرت میں عارف، متقی اور خاشع، وغیرہ کی نسبت سے اس کو مقام حاصل ہوگا۔ دنیا میں آدمی کو دنیوی تقاضے کے مطابق تیاری کی نسبت سے اپنا مقام استعمال ملتا ہے۔ آخرت میں ہر آدمی کور بانی تقاضے کے مطابق تیاری کی نسبت سے اپنا مقام استعمال ملے گا۔ خلاصہ کلام تہذیب (civilization) کیا ہے ۔ تہذیب، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کلمات الہیہ کے ظہور کا نام ہے۔ قیامت سے پہلے کے دور حیات میں یہ ظہور جزئی طور پر ہوگا اور قیامت کے بعد کے دور حیات میں کامل طور پر۔ موجودہ دنیا میں انسان کو آزادی حاصل تھی، اس لیے موجودہ دنیا میں کلمات الہیہ کے جزئی ظہور سے جو تہذیب بنی، اس میں انسانی فساد کی بنا پر منفی اجزا شامل ہوگئے۔ لیکن آخرت میں کلمات الہیہ کے کامل ظہور سے جو تہذیب وجود میں آئے گی، وہ انسانی فساد سے پوری طرح پاک ہوگی۔ اس لیے آخرت میں ظہور میں آنے والی تہذیب تمام تر مثبت اجزا پر مبنی ہوگی۔ اسی لیے اس کو جنتی تہذیب کہا گیا ہے۔ قرآن میں جنت کے حوالے سے ارشاد ہوا ہے کہ : لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)، یعنی ، ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا کو ایک موقع (opportunity) کے طور پر لے۔ وہ اپنے آپ کو اس اعتبار سے تیار کرے کہ وہ آخرت میں بننے والی جنتی تہذیب میں اپنے لیے باعزت جگہ پاسکے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ موجودہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت کی دنیا دار الجزا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page