Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 735

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمین پر انسان کو اس کے خالق نے ایک محدود مدت کے لیے بسایا ہے، اس لیے یہ انتظامات محدود پیمانے پر کیے گئے ہیں۔ ان انتظامات کو لامحدود طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام ، انسان کی فطری ضرورت (natural need) کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اب اگر انسان ایسا کرے کہ وہ ہوس پرستانہ تعیش (luxury) کے لیے لامحدود طور پر ان کو استعمال کرنے لگے، تو اس سے فطرت کا نظام غیر متوازن ہو جائے گا اور وہ چیز پیدا ہو جائے گی جس کو قرآن میں فساد (7:85) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں عملاً ایسا ہی پیش آیا ہے۔ انسان نے اپنی لامحدود خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے اور تعیشات کا انبار اپنے گرد اکٹھا کرنے کے لیے بڑی بڑی صنعتیں قائم کیں۔ بڑی بڑی موٹر کاریں بنائیں، بے شمار قسم کے کنزیومر گڈس (consumer goods) تیار کیے، ہر چیز کو ائر کنڈیشنڈ کرنے کی کوشش کی، ہتھیار کی صنعت (armament industry) کو چلانے کے لیے بڑے بڑے اسلحہ ساز کارخانے قائم کیے، وغیرہ۔ اس قسم کی چیزیں انسان کی ضرورت (need) نہ تھیں، وہ صرف اس کی ہوس (greed) کا تقاضا تھیں ۔ اس انتخابی دنیا میں خدا کا نظام ضرورت کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، نہ کہ ہوس کی بنیاد پر۔ مگر اتباع ہوئی (18:28) کی وجہ سے یہ توازن ٹوٹ گیا۔ اس طرح انسان، فطرت کے مقرر راستے سے ہٹ گیا۔ اس کا بھیانک نتیجہ ائر پلوشن، واٹر پلوشن، نوائز پلوشن اور پلاسٹک پلوشن، وغیرہ کی صورت میں نکلا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں فَسَادَ فِي الْأَرْض (7:85) کہا گیا ہے، یعنی فطرت میں قائم کردہ توازن (balance) کا ٹوٹ جانا ۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے۔ قدیم روایتی زمانے میں انسان، فطرت (nature) کو صرف بقدر ضرورت استعمال کرتا تھا۔ اس لیے دنیا میں فطری توازن کا نظام بگڑنے نہیں پایا۔ موجودہ صنعتی تہذیب کے زمانے میں انسان کو جدید طاقتوں پر دست رس حاصل ہوگئی۔ اب اُس نے لامحدود طور پر فطرت (nature) کا استعمال شروع کر دیا۔ اس کے نتیجے میں فطرت کا توازن مختل ہو کر رہ گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page