زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 736
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان نے جو کارخانے بنائے، اُن میں ایسا ایندھن استعمال ہوتا تھا جس سے وہ سنگین مسئلہ پیدا ہوا جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری فضا، مضر گیسوں سے بھر گئی۔ سمندر، خالص پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھے، لیکن صنعتی کثافتیں جو ندیوں وغیرہ کے ذریعے بہہ کر سمندر میں پہنچیں۔ ان صنعتی کثافتوں کے نتیجے میں یہ ناقابل حل مسئلہ پیدا ہوا کہ سمندروں میں پانی کا عظیم ذخیرہ پچانوے فی صد تک خطرناک طور پر آلودگی کا شکار ہو کر رہ گیا۔ حالات کی شدت کے نتیجے میں صحت بخش کیڑے مکوڑے (insects) روزانہ بہت بڑی تعداد میں مر کر ختم ہورہے ہیں، جن کا کوئی بھی بدل فراہم کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ جدید صنعتوں ہی کے نتیجے میں وہ سپر پراblem پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے۔ تمام دنیا کے سائنس داں متفقہ طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ زمین کے اوپر لائف سپورٹ سسٹم میں جو خطر ناک بگڑ آیا ہے، وہ ناقابل اصلاح (irreversible) ہے۔ تمام سائنس داں جدید سائنسی مشاہدات کی بنیاد پر یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ بیس سال کے اندر حالات اتنے زیادہ خراب ہو جائیں گے کہ سیارۂ زمین، انسان جیسی کسی مخلوق کے لیے ناقابل رہائش (inhabitable) ہو جائے گا۔ موجودہ سیارۂ زمین، انسان کو بقدر ضرورت استعمال کے لیے دیا گیا تھا، لیکن انسان نے تجاوز کر کے زمین کو بقدر تعیش استعمال کرنا چاہا۔ اس کے نتیجے میں انسان نے زمین پر اتنا زیادہ بگاڑ پیدا کر دیا کہ اُس نے زمین پر مزید رہنے کا جواز کھو دیا۔ بظاہر اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ انسان کو زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ اِسی بے دخلی کے دن کا دوسرا نام قیامت ہے۔ مارل سپورٹ سسٹم خدا نے انسان کو فطرتِ صحیحہ (30:30) پر پیدا کیا۔ اُس نے انسان کے اندر پیدائشی طور پر بُرائی اور بھلائی کی تمیز رکھ دی (91:8) پھر خدا نے انسان کے اندر ضمیر (conscience) رکھ دیا، جس کو قرآن میں نفسِ لوامہ (75:2) کہا گیا ہے۔ یہ نفسِ لوامہ، ہر انسان کے لیے ایک داخلی گائیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو صحیح اور غلط کا علم دیتا رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader