زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 737
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ پورا نظام جو نفسیات کی سطح پر قائم کیا گیا ہے، وہ گویا کہ انسان کے لیے ایک قسم کا مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو درست رویے پر قائم رکھے، وہ انسان کو اخلاقی بگاڑ کی طرف جانے سے روکتار ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے یہ سنگین جرم کیا کہ اُس نے خدا کے قائم کردہ اِس مارل سپورٹ سسٹم کو تباہ کر دیا۔ مغربی تہذیب کے فروغ کے بعد ایسے نظریے وضع کیے گئے جنھوں نے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ نیچر کوئی چیز نہیں، سب کچھ صرف نرچر (nurture) پر منحصر ہے، یعنی یہ دراصل سماجی اثرات ہیں جو کسی انسان کی شخصیت کو بناتے ہیں۔ اس فلسفیانہ اسکول کو عام طور پر بہیو پر ازم (Behaviourism) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے نے لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا کہ ربانی فطرت (divine nature) کوئی حقیقی چیز نہیں، وہ صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) ہے: Behaviourism: The doctrine that valid data consists only of the observable and measurable in individual's responses, not valuing subjective or introspective accounts. اسی طرح وہ فلسفہ وضع کیا گیا جس کو افادی نظریہ (Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے نے افادیت پسندی کو وہ جگہ دے دی جو فطرت کے نظام کے تحت، اخلاقی اقدار (moral values) کو حاصل تھی۔ ذاتی مفاد نے زندگی میں وہ حیثیت اختیار کر لی جو اس سے پہلے اعلیٰ اصولی معیارات کو حاصل تھی ۔ اس نظریے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: Utilitarianism: The doctrine that the greatest happiness of the greatest number should be the aim of all action. The doctrine that the worth, or value of anything is determined solely by its utility. اس نظریے نے ذاتی خوشی، یا ذاتی مفاد کو کسی شخص کی زندگی میں واحد قابل لحاظ چیز قرار دے دیا۔ اس نظریے کے مطابق، جس چیز سے آدمی کو خوشی ملے اور جس میں اس کو اپنا مادی فائدہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader