زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 738
By Maulana Wahiduddin Khan
نظر آتے، وہ اس کو بلا تامل اختیار کر سکتا ہے۔ اس معاملے میں ضمیر، یا فطرت کی آواز کا لحاظ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس نظریے نے فطرت کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کو زندگی کے معاملات میں اضافی (relative) قرار دے دیا۔ اس طرح، فطرت کا قائم کیا ہوا اخلاقی نظام عملاً غیر موثر ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح، مارل سپورٹ سسٹم کو غیر موثر بنانے میں سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا بہت بڑا دخل ہے۔ اس نے اپنے نظریات کے ذریعے انسان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ مطلق اخلاقی اقدار کا کوئی وجود نہیں۔ اُس نے بتایا کہ بی نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دور کے جذباتی صدمات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں۔ سگمنڈ فرائڈ نے اپنے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے مختلف قسم کی تکنیک اور خواب کی صنفی تعبیر کا سہارا لیا، اس طرح اس نے بتایا کہ نفسیاتی مسائل، دبے ہوئے جذبات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اُس نے اس بات پر زور دیا کہ بعد کی زندگی میں شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری سے صنفی تعلقات قائم کیے جائیں: ...Symptoms were caused by early trauma, and were expressions of repressed sexual energy. Devised 'free association' technique and dream interpretation discover repressed experiences. Emphasized importance of infantile sexuality in personality's develpment in later life. مذکورہ قسم کے نظریات، انسان کے ہوس پرستانہ جذبات کے عین مطابق تھے۔ چنانچہ ان کو آج کی دنیا میں خوب پھیلاؤ حاصل ہوا۔ اسی کے نتیجے میں اباحت پسند سوسائٹی (permissive society) بنی۔ اسی کے نتیجے میں ”آج“ میں جینے کا نظریہ بنا، جس کو عام طور پر رائٹ ہیئر، رائٹ ناؤ (right here, right now) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader