زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 739
By Maulana Wahiduddin Khan
اِسی نظریے کے نتیجے میں برہنگی (nudity) ماڈرن کلچر کا حصہ بن گئی۔ ڈوز اینڈ ڈوٹس (do's and don'ts) کا قدیم نظریہ، لوگوں کو بے معنی نظر آنے لگا۔ شراب اور سیکس جیسی چیزوں پر عائد رکاوٹیں ختم ہو گئیں۔ انسان کے مطالعے کے لیے حیوان کو معیار سمجھ لیا گیا۔ زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا کہ ــ کماؤ اور عیش کرو۔ پریس میں ایک واقعہ آیا ہے کہ مغربی دنیا کے ایک شخص نے سرجری کے ذریعے اپنی صنف تبدیل کی ۔ وہ مرد کے بجائے عورت بن گیا۔ پھر اس نے مرد جوڑے سے تعلقات قائم کیے ۔ اُس کو حمل قرار پایا ۔ اِس معاملے کو فخر کے ساتھ بتاتے ہوئے ، اُس نے کہا کہ ــ عورت ہونا، یا مرد ہونا، یہ ہمارے اپنے انتخاب کی بات ہے: Sex is a matter of choice. یہ قول موجودہ زمانے کے انسان کی ترجمانی کرتا ہے ۔ موجودہ زمانے کے انسان کی یہ سوچ بن گئی ہے کہ تمام اخلاقی قدریں اضافی (relative) ہیں ، نہ کہ حقیقی (real)۔ کسی نے اعلان کے ساتھ اور کسی نے اعلان کے بغیر یہ مان لیا ہے کہ نیکی اور بدی کا اصول کوئی ابدی اصول نہیں، نیکی اور بدی ہمارے اپنے انتخاب کی چیزیں ہیں: Virtue and sin both are matter of personal choice, rather than a matter pertaining to good and bad. جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، خالق کے قائم کردہ مارل سپورٹ سسٹم کا رول، انسانی زندگی میں بہت زیادہ اہم تھا۔ وہ انسان کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی ایک داخلی ضمانت تھا۔ مارل سپورٹ سسٹم، خدا کے تخلیقی پلان کا ایک لازمی حصہ تھا، مگر انسان نے آزادی کے غلط استعمال کو اُس کی آخری حد تک پہنچا دیا۔ خدا نے انسان کی زندگی میں مارل سپورٹ سسٹم کی صورت میں چیک اینڈ بیلنس (check and balance) کا نظام قائم کیا تھا، تا کہ انسان، خدا کے مطلوب معیار کے منھم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader