Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 740

By Maulana Wahiduddin Khan

(minimum) پر قائم رہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں انسان اس منہم حد پر قائم نہ رہ سکا۔ اس طرح، اس نے یہ جواز (justification) کھود یا کہ اس کو موجودہ زمین پر مزید مدت کے لیے باقی رکھا جائے۔ اخلاقی برائی کی آخری صورت قوم لوط کا زمانہ چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ یہ قوم بحر مردار (Dead Sea) کے علاقہ میں رہتی تھی۔ پیغمبر کے انذار کے باوجود وہ لوگ خدا کی پکڑ سے بے خوف ہو گئے۔ وہ بڑے پیمانے پر اُسی اخلاقی برائی میں مبتلا ہو گئے جس کو ہم جنسی (Homosexuality) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ برائی صرف ایک اخلاقی برائی کی حیثیت رکھتی تھی، مگر آج یہ اخلاقی برائی ایک خوب صورت فلسفہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ دنیا بھر میں تیزی سے اس کا رواج بڑھ رہا ہے، حتیٰ کہ بعض ملکوں میں ہم جنسی کے نکاح کو ایک قانونی نکاح کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں ہم جنس گروہ (gay community) بڑی تعداد میں موجود ہے۔ اِس قسم کے تقریباً ایک ہزار افراد نے 29 جون 2008 کو دہلی کی سڑکوں پر اپنا ایک پر فخر پریڈ (pride parade) نکالا۔ ان کا نعرہ تھا کہ ہم جنسی کو برا سمجھنا، یا اس کے خلاف قانون بنانا، یہ سوشل ڈس کری منیشن (social discrimination) ہے، اس کو بند ہونا چاہیے ۔ یہ رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (30 جون، 2008) میں حسب ذیل عنوان کے ساتھ چھپی ہے: Gay pride out on capital's streets, p. 3. حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مظاہرہ کے وقت لوگوں کی طرف سے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ افراد نے شرم و حیا کو کھود یا ہے، اور سماج میں اخلاقی ضمیر کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page