Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 741

By Maulana Wahiduddin Khan

یورپ اور امریکا اور کینڈا میں یہ موضوع کھلے ڈسکشن کا موضوع بن چکا ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں میں اس موضوع پر باقاعدہ رسرچ ہو رہی ہے۔ رسرچ کرنے والے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم جنسی کا رجحان خود نیچر کے اندر موجود ہے۔ اس معاملے میں وہ بعض چڑیوں اور بعض کیڑوں (insects) کی مثال دیتے ہیں۔ ان نام نہاد تحقیقات کے بارے میں کئی کتابیں چھپی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب کا نام یہاں درج کیا جاتا ہے: Biological exuberance: Animal Homosexuality and Natural Diversity, by Bruce Bagemihl (Published in 1999) نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (29 جون، 2008) میں اس کی رپورٹ تفصیل کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے: Homosexuality: Nature or Nurture یہ صرف ایک مغالطہ ہے، نہ کہ کوئی حقیقی رسرچ۔ انسان کے بارے میں سائنٹفک رسرچ وہ ہے جو خود انسان پر کی گئی ہو اور انسان کے حیاتیاتی نظام کے مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا ہو۔ مذکورہ رسرچ میں یہ کیا گیا ہے کہ بعض کیڑوں کا مطالعہ کیا گیا اور ان کیڑوں کی بعض عادات معلوم کر کے ان کو انسان کے اوپر چسپاں کر دیا گیا۔ یہ ایک قیاس مع الفارق ہے، اور اس قسم کا قیاس سائنسی طور پر معتبر نہیں۔ چار ہزار سال پہلے قوم لوط ٹھیک اسی عمل میں مبتلا ہوئی تھی۔ جب پیغمبرانہ انداز کے باوجو د انھوں نے اپنی اس روش کو ترک نہیں کیا، تو اُن پر خدا کی طرف سے ہلاکت خیز عذاب بھیجا گیا۔ اِس کے بعد ہمیشہ کے لیے اْس قوم کا خاتمہ ہو گیا۔ اب یہی عمل مزید اضافے کے ساتھ، ساری دنیا میں پھیل گیا ہے۔ قوم لوط کا بگاڑ صرف اخلاقی بگاڑ کے ہم معنی تھا، موجودہ زمانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page