Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 742

By Maulana Wahiduddin Khan

میں یہ اخلاقی بُرائی فلسفیانہ جواز کے تحت کی جارہی ہے۔ اس طرح ، موجودہ زمانے کی بُرائی ، قدیم زمانے کی بُرائی کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ شنیع حیثیت رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ قدیم زمانے میں یہ بُرائی زمین کے صرف ایک محدود رقبے میں پائی جاتی تھی ، آج یہ بُرائی پورے کرۂ ارض میں پھیل گئی ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں ، قربِ قیامت کے آخری دور کی علامت کے طور پر ، اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ ، يَتَهَارَجُوْنَ فِيْهَا تَهَارُجَ الحُمُرِ (صحيح مسلم ، حدیث نمبر 2937)۔ یعنی ، اُس وقت صرف برے لوگ دنیا میں باقی رہیں گے جو گدھوں کی طرح بے حیائی کا فعل کریں گے۔ یہ صورتِ حال اپنے آپ میں اِس بات کا ایک اعلان ہے کہ خدا کی پکڑ کا وقت بالکل قریب آچکا ہے۔ قومِ لوط کے زمانے میں ، خدا کا عذاب ایک محدود وقیامت کے طور پر آیا تھا ، جِس کو قرآن میں عذابِ ادنیٰ (32:21) کہا گیا ہے۔ اب یہ عذابِ عالمی قیامت کے طور پر آنے والا ہے ، جِس کو قرآن میں عذابِ اکبر (32:21) کہا گیا تھا۔ قومِ لوط نے محدود طور پر اپنے وجود کا جواز (justification) کھویا تھا ، اب انسانیت نے عالمی سطح پر اپنے وجود کا جواز کھویا ہے۔ حالات پکار رہے ہیں کہ کاؤنٹ ڈاؤن اب اپنی آخری گنتی تک پہنچ چکا۔ قیامت کا فرشتہ اب ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جاگنے والو، جاگو۔ دیکھنے والو، دیکھو۔ کان والو، سنو۔ دماغ والو، سوچو۔ آج کا دن تمھارے لیے آخری دن ہے۔ اگر آج تم اپنے اختیار سے ہوش میں نہ آئے تو کل تم کو مجبورانَہ طور پر ہوش میں آنا پڑے گا۔ مگر کل ہوش میں آنا، کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ موجودہ دنیا، انسان کو نہ انعام کے طور پر ملی ہے اور نہ کسی استحقاق کے طور پر۔ یہ دنیا خدا نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page