Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 747

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ انسانی کا خاتمہ 12 اگست 2012 کو امریکہ کی ایک خبر تمام اخباروں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔ وہ خبر یہ تھی کہ ایک امریکی صحافی کو نظریاتی سرقہ (plagiarism) کا مرتکب پایا گیا اور اس بنا پر اس کو اس کے صحافتی جاب سے فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ اس خبر کی سرخی تھی: American journalist suspended for plagiarism. نظریاتی سرقہ (plagiarism) کیا ہے، وہ دراصل کسی شخص کی فکری پراپرٹی (intellectual property) کا سرقہ کرنے کا نام ہے۔ نظریاتی سرقہ یہ ہے کہ کسی شخص کے آئڈیا کو اصل مصنف کے حوالے کے بغیر اپنا بنا کر نقل کیا جائے: Plagiarism: Copying someone's idea without crediting the original author. (Merriam-Webster Dictionary) یہ معاملہ امریکہ کے مشہور صحافی مسٹر فرید زکریا کا ہے۔ وہ امریکی میگزین ٹائم (Time) کے ایڈیٹر تھے۔ انھوں نے ٹائم کے شمارہ 20 اگست 2012 میں اپنا ایک مضمون گن کلچر کے موضوع پر شائع کیا۔ اس کا عنوان یہ تھا: The Case for Gun Control - اس مضمون میں انھوں نے ایک پیراگراف شامل کیا تھا جو پورا کا پورا، ایک اور شائع شدہ مضمون سے لیا گیا تھا۔ یہ دوسرا مضمون امریکہ کی ایل (Yale) یونی ورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر جل لپیور (Jill Lepore) کا تھا، جس کو مسٹر فرید زکریا نے بلا حوالہ اپنے مضمون میں شامل کر لیا تھا۔ یہ مضمون امریکہ کے ایک اخبار نیویارکر (The New Yorker) کے شمارہ 22 اپریل 2012 میں اس عنوان کے تحت چھپا تھا Battleground America— نظریاتی سرقہ کا یہ واقعہ جو عالمی میڈیا میں آیا ہے، وہ کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ وہ دراصل اس قسم کے ایک زیادہ بڑے سرقہ (super plagiarism) کے لیے ایک یاددہانی (reminder)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page