زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 748
By Maulana Wahiduddin Khan
کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک انسان کی برخاستگی کے حوالے سے یہ یاد دلار ہا ہے کہ شاید وہ وقت آگیا ہے جب کہ کائنات کا مالک پوری تہذیب کو برخواست کردے۔ سترھویں صدی عیسوی سے پہلے دنیا میں روایتی دور قائم تھا۔ اس کے بعد دنیا میں سائنٹفک دور کا آغاز ہوا۔ سائنٹفک دور سے مراد وہ دور ہے جب کہ انسان نے نیچر (nature) پر آزادانہ غور وفکر شروع کیا۔ اس غور وفکر کے بعد یہ ہوا کہ نیچر میں چھپے قوانین ایک کے بعد ایک دریافت ہونے لگے۔ مثلاً پانی میں اسٹیم پاور کی دریافت، اور مادہ (matter) میں بجلی (electricity) کی دریافت، وغیرہ۔ جدید دنیا، خاص طور پر مغربی دنیا میں کئی سو سال تک اس موضوع پر ریسرچ جاری رہی، یہاں تک کہ فطرت میں چھپے ہوئے ہزاروں قوانین دریافت ہو گئے ۔ ان کے ذریعے ایک نئی ٹیکنالوجی بنی اور بہت سے نئے فنی علوم وجود میں آئے۔ وہ ظاہر ہ جس کو جدید مغربی تہذیب کہا جاتا ہے، اس کی تشکیل تمام تر انھیں دریافت کردہ قوانین فطرت پر مبنی ہے۔ یہ قوانین جو موجودہ زمانے میں معماران تہذیب نے دریافت کیے، اُن کو سائنسی قوانین (scientific laws) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ سائنسی قوانین نہیں ہیں، بلکہ وہ خدائی قوانین (divine laws) ہیں۔ خدائی قوانین کو نظامِ فطرت سے لینا اور اُن کو سائنس قوانین کے نام پر اپنا بنا کر پیش کرنا، یہ بلاشبہ ایک سپر سرقہ (super plagiarism) کیس ہے۔ تہذیب جدید کے معماروں کا یہ واقعہ بھی بلاشبہ اسی قسم کا ایک سرقہ ہے۔ امریکی صحافی کا سرقہ اگر جرنلسٹک سرقہ (journalistic plagiarism) تھا تو معمارانِ تہذیب کا سرقہ سائنٹفک سرقہ (scientific plagiarism) ہے۔ امریکی صحافی نے تو صرف اپنے ایک آرٹیکل میں نظریاتی سرقہ کا ارتکاب کیا تھا، جبکہ مغربی تہذیب کا پورا کا پورا ڈویلپمنٹ اسی قسم کے عظیم تر نظریاتی سرقہ کی بنا پر ہوا ہے۔ امریکی جرنلسٹ کا سرقہ اگر صرف ایک انفرادی سرقہ تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader