زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 749
By Maulana Wahiduddin Khan
تو مغربی تہذیب کا سرقہ اس کے مقابلے میں ایک عالمی سرقہ (global plagiarism) کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا سے انسان کی بے دخلی تہذیب کی ترقی کے نام پر مذکورہ سائنسی سرقہ کئی سوسال سے بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں جاری ہے، مگر اس مدت میں اہل تہذیب کے درمیان کوئی شخص نہیں اٹھا جو یہ اعلان کرے کہ یہ تمام تہذیبی ترقیاں خدائی قوانین (divine laws) کی بنا پر ممکن ہوئی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم کھلے طور پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیں۔ بے اعترانی کا یہ معاملہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ چکا ہے۔ اب آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ کائنات کا خالق انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کر دے اور زمین کا اور پوری دنیا کا نظام حقیقت واقع کی بنیاد پر قائم کرے۔ دنیا کا یہ انجام پیشگی طور پر مقدر تھا۔ خدا نے پیشگی طور پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب کہ انسان کو زمین کے چارج سے بے دخل کر دیا جائے اور دنیا کا نیا نظام بنایا جائے۔ اس سلسلے میں قرآن کا ایک بیان یہ ہے: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (39:67)۔ یعنی، اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دہاہنے ہاتھ میں۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اس آیت میں ’قدر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قدر کا مطلب ہے اندازہ کرنا، یعنی انسان جو کچھ دنیا میں کر رہا ہے، وہ اس لیے کر رہا ہے کہ اس نے خالق کا کم تر اندازہ (under-estimation) کر رکھا ہے۔ یہ کم تر اندازہ کیا ہے، اس کم تر اندازہ کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader