Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 750

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا گیا ہے : اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنَكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (23:115)۔ یعنی، کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔ اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ یہ روایت قرآن کی مذکورہ آیت (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ) کی مزید تشریح کرتی ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ اِبْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ، يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَعْتَهُ: أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا الْمُتَكَبِّرُ، أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْعَزِيزُ، أَنَا الْكَرِيمُ، فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ حَتَّى قُلْنَا لَيَحْرَكَنَّ بِهِ (السلسلة الصحيحة، 7/596)۔ یعنی، عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید کرے گا اور کہے گا کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر۔ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب کہ خالق کائنات ظاہر ہو اور براہِ راست طور پر دنیا کا چارج لے لے۔ اسباب کے اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالفعل آچکا ہے، اُس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page