زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 751
By Maulana Wahiduddin Khan
لائف سپورٹ سسٹم کی تباہی دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات، وغیرہ۔ ان چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، یعنی معاون حیات نظام۔ سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاون حیات نظام خطر ناک حد تک بگڑ گیا ہے، سائنس داں برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آباد کاری بہت جلد ناممکن ہو جائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ نے اس صورت حال کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے، حالانکہ اسٹفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں۔ زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک (Arctic) کہا جاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آرکٹک (قطب شمالی) کا یہ خطہ مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہرے نے شدت اختیار کی ہے، قطب شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، شاید اندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے۔ اس کی بنا پر مختلف قسم کے خطر ناک نتائج پیدا ہوں گے جو زمین کو انسان کے لیے ناقابل رہائش بنا دیں گے۔ اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 اگست (2012) میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے : Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years (p. 19)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader