زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 752
By Maulana Wahiduddin Khan
خلاصہ کلام اوپر جو کچھ لکھا گیا ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اُس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہا جاتا ہے۔ وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے ، وہ پوری کی پوری اِسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اِس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے۔ جن لوگوں نے اِس تہذیب کو وجود دیا ، وہ اِس جرم میں براہِ راست طور پر شریک ہیں ، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اِس جرم پر نگیر (denial) کے بغیر اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ، وہ بالواسطہ طور پر اِس جرم میں شریک ہیں۔ اِس نظریاتی سرقہ (plagiarism) کے خلاف خالق کی کارروائی اب مستقبل بعید کی چیز نہیں رہی۔ یہ کارروائی اب عملاً شروع ہو چکی ہے۔ اِس کارروائی کو ایک لفظ میں اِس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کر دیا جائے ۔ خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہو رہا ہے۔ بظاہر وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جس کی پیشین گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جا چکی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader