کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
( celestial bodies ) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہو جاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔ قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی ( superstitious ) واقعہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں کوئی پُراسراريت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson Eclipse Phenomena in Astronomy (1969) by F. Link Eclipses in the Second Millennium BC (1954) by G. Van Bergh گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جب کہ اس معاملے میں تو ہماتی عقائد کا رواج تھا۔ گرہن کا دوسرا دور موجودہ زمانے میں دوربین کی ایجاد (1608) کے بعد شروع ہوا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو اسلام کے ذریعہ انسان کے علم میں آیا، وہ یہ کہ گرہن کا تعلق نہ تو ہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالقِ کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا ایک مظہر ہے، وہ انسان کے لیے خداوند عالم کا ایک تعارف ہے، گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کر رہا ہے۔ ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم مدینہ میں پیدا ہوئے۔ ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ہجری (632ء) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا ۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق، مدینہ کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ (صحيح البخاری، حدیث نمبر 1041)، یعنی، سورج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader