Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

اور چاند میں کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا، وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔ ”چاند گرہن اور سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں“— یہ کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ دراصل اس معاملے کے اصل معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند گرہن اور سورج گرہن جس طرح ہوتا ہے، اس پر غور کیا جائے تو وہ آدمی کے لیے خدا کی دریافت کا ذریعہ بن جائے گا۔ وہ سادہ طور پر فلکیاتی نشانی کے بجائے، زیادہ گہرے معنوں میں خدائی نشانی ثابت ہوگا۔ چاند گرہن یا سورج گرہن ایک انوکھا تخلیقی معجزہ ہے، اس کے پیچھے خالق کائنات کی معجزانہ صناعی نظر آتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، گرہن اُس وقت پیش آتا ہے جب کہ تین خلائی اجسام، زمین، چاند، سورج، گردش کرتے ہوئے ایک سیدھ میں آ جائیں۔ تینوں کے سائز میں بہت زیادہ فرق ہے۔ چاند کو اگر سرسوں کے دانے کے برابر سمجھا جائے تو اس کے مقابلے میں زمین فٹ بال کے برابر ہوگی اور سورج ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔ یہ تین مختلف سائز کے اجسام حرکت کرتے ہوئے ایسے تناسب سے ایک سیدھ میں آجاتے ہیں کہ زمین سے دیکھنے والا ان کو یکساں سائز میں دیکھنے لگے۔ جب تینوں کے درمیان چاند ہو تو سورج گرہن واقع ہوگا۔ اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔ یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے: It is a unique well- calculated positioning of three moving bodies, highly inequal in size, in the vast space. گرہن (eclipse) اُس وقت واقع ہوتا ہے جب کہ وسیع خلا کے تین اجرام، زمین، چاند، سورج، انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آ جائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہر ہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ— ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page