Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

مہر کی ذمہ داری مرد (صنف قوی) پر ڈالی گئی، تاکہ اس کو اس کی خصوصی ذمہ داری یاد دلائی جائے۔ حضرت انس بن مالک مشہور صحابی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ نے جب نکاح کیا تو اس نے آدھے دین پر عمل کر لیا۔ پس اس کو چاہیے کہ وہ بقیہ آدھے دین میں اللہ سے ڈرے (مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ نِصْفَ الْإِيْمَانِ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي) المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 7647۔ اس حدیث کی روشنی میں جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان نکاح اور ازدواجی زندگی کے معاملہ میں صرف آدھے دین کی حد تک دین دار ہیں۔ بقیہ آدھے دین کے معاملہ میں وہ خدا سے بے خوفی کی حد تک بے دین بنے ہوئے ہیں۔ ان غیر دینی طریقوں میں سے ایک، قابل نفرت حد تک قبیح چیز وہ مسرفانہ رسوم ہیں جو شادی کے موقع پر رواجاً ضروری بن گئی ہیں۔ ان جھوٹی رسموں نے موجودہ زمانہ میں بے شمار خاندانوں کو ایک قسم کے سماجی عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسرفانہ تقریبات نکاح کے ارکان وشروط کے بارے میں فقہاء کے درمیان کچھ لفظی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر، اصل یہ ہے کہ اسلامی نکاح صرف طرفین کے ایجاب و قبول سے واقع ہو جاتا ہے، بشرطیکہ اس کا اعلان بھی کیا گیا ہو، اور نکاح نے منکوحہ کو اس کی ضروری مہر ادا کر دی ہو۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں نکاح اور شادی کا معاملہ کتنا زیادہ سادہ اور سہل ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلم شادیوں میں ایسے برے رواج شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے ایک جائز فعل کو نا جائز فعل میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک یہ کہ شادی کو خاندانی وقار کا مسئلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page