Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

شخص جو اپنی نامقولیت کے لیے بدنام ہو۔ دنیا کے رجسٹر میں اب بھی اس کا نام مسلمانوں کے خانہ میں لکھا ہوا ہوتا ہے۔ مگر خدا کے نزدیک وہ ایسا شخص ہوتا ہے جس کا اسلام بغض اور حسد اور بے انصافی کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ ایک شخص دینی خدمت کے لیے اٹھتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلامی اصلاح کا کام کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ایک شاندار ادارہ بن جائے، اس کو کچھ پیسے ہاتھ آ جائیں، اس کے گرد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے، اس کو کوئی بڑا رتبہ مل جائے تو اس کے بعد وہ ایک اور ہی انسان کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ اب اس کا اسلام نمائشی اسلام بن جاتا ہے۔ اس کی تواضع گھمنڈ کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ دینی خدمت کا جذبہ اپنا مقام بنانے کے شوق میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مگر حقیقت کی نگاہ میں وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو اسلام کے راستہ پر چلا مگر کچھ دور آگے بڑھا تھا کہ شیطان اس کو اچک لے گیا۔ اسلامی نکاح نکاح عورت اور مرد کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ مقدس بھی ہے اور مستقل بھی۔ اس موقع پر مرد کی طرف سے عورت کو جو مہر ادا کی جاتی ہے، وہ دراصل ایک علامتی رقم (token money) ہے۔ مہر کی صورت میں مرد ایک علامتی رقم ادا کر کے اس بات کا سنجیدہ عہد کرتا ہے کہ وہ نکاح کی تمام شرعی اور انسانی ذمہ داریوں کو نبھائے گا۔ شریعت کے مطابق، مہر کی مقدار ایسی ہونی چاہیے جس کا ادا کرنا آسان ہو (خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ) مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2742۔ مہر کی ذمہ داری مرد پر ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ مرد صنف قوی ہے۔ عورت کا صنف ضعيف ہونا بذات خود اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ معاہدہ کی پابند رہے گی، اس لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page