مسرفانہ تقریبات
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نکاح کی سادہ اسلامی تقریب مصنوعی دھوم اور بے جانمائش کی تقریب بن گئی ہے۔ اس دھوم اور نمائش کو قائم رکھنے کے لیے لوگ مالی اعتبار سے لٹ جاتے ہیں۔ جائیداد بیچ دیتے ہیں اور سودی قرض کی لعنت میں پھنس جاتے ہیں۔ ایک دن کی ظاہری دھوم کی خاطر وہ اپنی پوری زندگی کو بے دھوم بنا لیتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں سراسر غیر اسلامی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح کی تقریب کو انتہائی حد تک سادہ اور بے خرچ ہونا چاہیے۔ وہ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے نماز کا وقت آیا اور آدمی نے مسجد میں جا کر نماز پڑھ لیا۔ نکاح اور شادی کو ایک سنجیدہ فریضہ کی ادائیگی کا دن ہونا چاہیے۔ نہ کہ شخصی حیثیت یا خاندانی عزت کے اظہار کا دن۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّ اَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً اَيْسَرُهُ مُؤُوْنَةً (مسند احمد، حدیث نمبر 24529)۔ یعنی، بے شک سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ ہلکا اور کم خرچ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخصوص مصالح کی بنا پر کئی نکاح کی اجازت تھی۔ چنانچہ آپ نے مختلف اوقات میں گیارہ خواتین سے نکاح کیا۔ نو خواتین بوقت وفات آپ کے یہاں موجود تھیں۔ ان میں سے کسی بھی نکاح کے موقع پر کسی بھی قسم کی کوئی نمائشی تقریب نہیں کی گئی۔ مثلاً آپ کی ایک اہلیہ سودہ بنت زمعه تھیں۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد مکہ میں ان کے ساتھ آپ کا نکاح ہوا۔ سودہ ایک بیوہ خاتون تھیں۔ آپ کی طرف سے خولہ بنت حکیم نکاح کا پیغام لے کر گئیں۔ انہوں نے پہلے سودہ سے اس کا ذکر کیا۔ سودہ نے کہا کہ اگر میرا باپ راضی ہو تو مجھے کوئی عذر نہیں۔ چنانچہ خولہ نے سودہ کے باپ سے گفتگو کی۔ انہوں نے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader