مسرفانہ تقریبات
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
رشتہ سے اتفاق کیا۔ اس کے بعد آپ سودہ بنت زمعہ کے مکان پر گئے اور وہاں سادہ طور پر نکاح پڑھا دیا گیا۔ اصحابِ رسول کا طریقہ بھی ہمیشہ یہی رہا۔ حتی کہ صحابہ میں جو لوگ صاحبِ مال تھے، انہوں نے بھی ہمیشہ سادہ اور بے خرج انداز میں نکاح کیا۔ مثال کے طور پر حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک تاجر تھے۔ وہ ان چند صحابہ میں تھے جو مالدار شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے مدینہ میں ایک خاتون سے نکاح کیا۔ امام احمد نے حضرت انس کے واسطہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی مواخاتِ مدینہ میں ایک ایسے مسلمان کے ساتھ کی گئی جو بہت مالدار تھے۔ انہوں نے اپنے نصف مال کی پیش کش کی۔ مگر عبدالرحمن بن عوف نے ان کے مال میں سے کچھ نہیں لیا۔ انہوں نے مدینہ میں تجارت شروع کر دی ۔ یہاں تک کہ وہ خود ایک مال دار شخص ہو گئے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے تو ان کے کپڑے پر خوشبو کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمانی زبان میں فرمایا : مُهْيَمْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ (کیا بات ہے ، عبدالرحمن )۔ انہوں نے کہا: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ (اے خدا کے رسول، میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کر لیا ہے ) مسند احمد، حدیث نمبر 12685۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اگرچہ مدینہ میں تھے مگر انہوں نے اپنے نکاح میں دھوم والی کوئی تقریب نہیں کی۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے قریبی اصحاب کو بھی شادی کی تقریب میں مدعو نہیں کیا۔ سادہ طور پر محض ایجاب و قبول کے ذریعہ نکاح کر لیا۔ اور مقررہ مہر ادا کر کے ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader