Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

تلک کی رسم

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

تلک کی رسم مسلمانوں میں آج کل جہیز کی جو رسم ہے، وہ عین اسی ہندوانہ رسم کی نقل ہے جو برادران وطن کے درمیان تلک (dowry) کے نام سے رائج ہے۔ ہندوؤں میں یہ رسم غالباً زرعی دور میں اس طرح پڑی کہ ان کے مذہبی قانون کے مطابق، جائیداد میں لڑکیوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ اس کی جزئی تلافی کے لیے شادی کے موقع پر کچھ نقد یا سامان لڑکی کو دینے کا رواج شروع ہوا۔ غیر قوموں کی جن چیزوں کو مسلمانوں نے باقاعدہ اپنا لیا ہے، ان پر تو وہ دین کی طرح عمل کرتے ہیں۔ لیکن غیر قوم میں اگر خود کسی چیز کو ان کے درمیان رائج کرنا چاہیں تو فوراً ان کے تمام اصاغرواکابر برپا رکھتے ہیں کہ ان کی ملی شناخت کو مٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔ جہیز کی رسم مسلمانوں میں آج کل جہیز کی جو رسم ہے وہ عین اسی ہندوانہ رسم کی نقل ہے جو برادران وطن کے درمیان تلک کے نام سے رائج ہے۔ پہلے جہیز کا مطلب یہ تھا کہ لڑکی کا سر پرست لڑکی کو نیا گھر بسانے کے لیے ضروری سامان دیدے۔ مگر اس نے باقاعدہ مطالبہ اور خرید و فروخت کی صورت اختیار کرلی ہے۔ لڑکا جتنا زیادہ بڑی تعلیمی ڈگری رکھتا ہو یا جتنا زیادہ بڑی کمائی والا ہو اتنا ہی زیادہ شادی کے بازار میں اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پہلے لڑکی کے والدین لڑکی کو ضروری استعمالی اشیاء بطور جہیز دیتے تھے۔ اب اس میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ مثلاً صوفہ سیٹ، ڈنر سیٹ، کو کنگ ریج، ٹیلی وژن، موٹر سائیکل، ریفریجریٹر، کار، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم اسی پر بس نہیں۔ اسی کے ساتھ خاطب (لڑکا) مخطوبہ (لڑکی) سے بڑی بڑی رقموں کا مطالبہ کرتا ہے یا متوقع رہتا ہے جس کی تکمیل کے بغیر شادی لڑکی کے لیے بربادی کے ہم معنی بن جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page