Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

تلک کی رسم

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

اب بھاری رسموں کا نتیجہ یہ ہے کہ شادی ایک ایسا تعیش بن گئی ہے جو صرف چند خوش نصیب افراد کے بس میں ہو، بے شمار والدین ہیں جو اپنے آپ کو اپنی لڑکیوں کا نکاح کرنے کے لیے بے بس پارہے ہیں۔ ان کے سامنے ان کی جوان لڑکیاں حسرت و یاس کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ مگر ان کے امکان میں نہیں کہ شادی کے بازار میں بھاری رقم ادا کر کے ان کے لیے شوہر پاسکیں۔ چنانچہ ایسی مثالیں سامنے آرہی ہیں کہ لڑکیاں خود کشی کر لیتی ہیں۔ مرتد ہو جاتی ہیں اور دوسری برائیوں میں پڑ جاتی ہیں جن کو بیان کرنے کی قلم میں طاقت نہیں۔ جہیز کی یہ صورتیں سادہ طور پر صرف سماجی برائی نہیں ہیں۔ وہ یقینی طور پر ناجائز اور حرام ہیں۔ یہ ایسے اعمال ہیں جن کے ساتھ آدمی کا نماز روزہ بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول نہیں کیا جاتا۔ قدیم زمانہ میں موجودہ قسم کے جہیز کا رواج نہ تھا جس میں لڑکی کا والد لڑکے کو سامان اور نقد رقم ادا کرتا ہے۔ تاہم یہ رسم برعکس صورت میں جزئی طور پر پائی جاتی تھی۔ یعنی لڑکی والوں کے مطالبہ پر لڑکے والے کچھ سامان یا نقد لڑکی کو ادا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ کہ قدیم زمانہ زراعتی زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں مال اور کمائی کے اعتبار سے وہ غیر معمولی فرق نہ تھا جو آج پیدا ہو گیا ہے۔ قدیم زمانہ کی عورت زراعت کے چھوٹے اور ہلکے کام کرتی تھی۔ اس کے مقابلہ میں مرد زیادہ بڑے اور بھاری کام کرتا تھا۔ اس طرح دونوں صنفوں میں جو فرق تھا وہ صرف کچھ ڈگری کا تھا۔ اب موجودہ زمانہ میں کمائی کے نئے اور اتھاہ مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر عورت (خاص طور پر مشرقی معاشرہ کی عورت) بڑی حد تک اپنے سابقہ مقام پر ہے۔ جب کہ مرد کمائی کے اعتبار سے کم از کم امکانی طور پر، ناقابل بیان حد تک آگے بڑھ گیا ہے۔ اس صورت حال نے شادی کے بازار میں عورت کی اہمیت گھٹا دی ہے۔ اور مرد کی اہمیت اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب لڑکی والے مطالبہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اب یہ حیثیت تمام تر لڑکے کی طرف چلی گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page