تلک کی رسم
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ عرض کیا گیا۔ قدیم زمانہ میں زیادہ تر مخاطب (لڑکے) سے جہیز کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اس وقت علماء سے اس کی بابت فتویٰ پوچھا گیا تو انہوں نے اس کو رشوت قرار دیا۔ بوقتِ نکاح اس قسم کی رقم لینے اور دینے کو انہوں نے حرام بتایا اور اس کو اس حدیث کے تابع ٹھہرایا: لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 2313)۔ یعنی رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔ مجموعہ فتاویٰ مولانا عبدالحی (2/74) میں اس نوعیت کے ایک استفتاء کے جواب میں یہ مسئلہ نقل کیا گیا ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي وَمِنَ الرِّشْوَةِ مَا أَخَذَهُ وَلِيُّ المَرْأَةِ قَبْلَ النِّكَاحِ، إِذَا كَانَ بِالسُّؤَالِ، أَوْ كَانَ إِعْطَاءُ الزَّوْجِ بِنَاءً عَلَى عَدَمِ رِضَائِهِ عَلَى تَقْدِيرِ عَدَمِهِ (الوسيلة الاحمديه شرح الطريقة المحمدية)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت کی ہے۔ اور عورت کا سرپرست نکاح سے پہلے جو کچھ لے وہ بھی رشوت ہے، خواہ مطالبہ کر کے لے، یا شوہر اس وجہ سے دے کہ اس کے بغیر عورت کا سرپرست نکاح پر راضی نہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں لوگ شادی کے موقع پر نہایت اطمینان کے ساتھ بڑے بڑے سامان اور رقمیں لیتے ہیں۔ انہیں خیال نہیں آتا کہ اس میں کوئی ہرج ہے۔ حالاں کہ یہ عین اس حدیث کا مصداق ہے جو صحیح بخاری میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب کہ آدمی جو کچھ لے گا اس کے بارے میں اس کو یہ پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال ہے یا حرام (يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لَا يُبَالِي المَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ، أَمِنَ الحَلَالِ أَمْ مِنَ الحَرَامِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 2059۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader