تلک کی رسم
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
شادی کے معاملہ میں نمائش اور مسرفانہ رسمیں جو آج کل مسلمانوں میں رائج ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تمام تر ملک کی غیر مسلم قوموں کے زیر اثر اختیار کی گئی ہیں۔ یہ سب اسلام کی اطاعت نہیں ہے، بلکہ غیر مسلم قوموں کی مشابہت ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے (مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4031۔ کوئی عالم اگر دھوتی پہن کر بازار میں نکلے تو تمام مسلمان چیخ اٹھیں گے۔ مگر اس سے زیادہ بڑے بڑے معاملات میں تمام عالم غیر قوموں کی نقل کر رہے ہیں اور اس پر کوئی چیخ بلند نہیں ہوتی۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی نے حیاۃ الصحابہ (جلد دوم) میں ایک باب اس عنوان کے تحت قائم کیا ہے: نکاح میں کافروں کی مشابہت پر انکار۔ اس کے ذیل میں انہوں نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: (الإنكار على من تشبه بالكفرة في النكاح) عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قُرْطِ الثُّمَالِيَّ كَانَ يَعِشُّ بِحِمْصَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ، فَمَرَّتْ بِه عَروسٌ وهم يُوقِدونَ النيرانَ بينَ يَدَيْها، فَضَرَبَهم بِدُرَّتِهِ حتى تَفَرَّقوا عن عروسِهم. فلما أَصْبَحَ قَعَدَ على مِنْبَرِهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وأثنى عليه، فقال: إِنَّ أبا جَنْدَلَةَ نَكَحَ أُمَامَةَ فَصَنَعَ لها حُثْيَاتٍ مِن طعامٍ، فَرِحِمَ اللَّهُ أبا جَنْدَلَةَ، وصَلَّى على أُمَامَةَ، ولَعَنَ اللَّهُ عروسَكم البارحةَ، أَوْقَدوا النيرانَ وتشبَّهُوا بالكُفَّارِ، واللهُ مُطْفِئُ نورِهم. قال: وعبدُ اللَّهِ بنُ قُرْطٍ مِنْ أصحاب النبيِّ صلَّى اللَّهُ عليه وسلَّم. (الاصابة في تمييز الصحابة لابن حجر العسقلان، جلد 7، صفحه 65)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader