کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن قرط شمالی حمص میں ایک رات خبر گیری کے لیے پھر رہے تھے۔ وہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کی طرف سے وہاں کے حاکم تھے۔ انہوں نے دولہا دلہن کی ایک بارات گزرتے ہوئے دیکھی۔ لوگ اس کے آگے آگے جلا کر چل رہے تھے۔ حضرت عبداللہ نے ان کو اپنے درہ سے مارا، یہاں تک کہ لوگ بھاگ گئے۔ جب صبح ہوئی تو وہ اپنے منبر پر بیٹھے۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثنا کی اور کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو جندل نے امامہ سے نکاح کیا۔ اور ان کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار کیا۔ تو اللہ ابو جندل پر رحم کرے اور امامہ پر بھی رحمت فرمائے۔ اور اللہ گزشتہ رات کے تمہارے دولہا دلہن پر لعنت کرے۔ انہوں نے آگ روشن کی اور کافروں کے ساتھ مشابہت اختیار کی، مگر اللہ ان کی روشنی کو بجھا دینے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن قرط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے۔ ایک وقت تھا کہ شادی میں نسبتاً کم تر درجہ کی غلط رسوم پر اسلام کے حاکم لوگوں کو کوڑے مارتے تھے، اور علماء ان کے حرام ہونے کا فتویٰ دیتے تھے۔ آج ان سے بہت زیادہ غلط رسوم مسلم شادیوں میں عام طور پر رائج ہو گئی ہیں، مگر ان کے خلاف کوئی اٹھنے والا نہیں۔ حتیٰ کہ جو لوگ بظاہر اس کے خلاف بولتے ہیں، وہ بھی اس وقت اسی جاہلانہ دھوم میں شریک ہو جاتے ہیں، جب کہ یہ دھوم ان کی اولاد یا ان کے اپنے لوگوں کی طرف سے کی گئی ہو۔ جھوٹی دھوم ٹائمس آف انڈیا (30 مئی 1985) میں ہندوستانی شادیوں کے بارے میں ایک سبق آموز رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس کا عنوان ہے: ہیلی کاپٹر بارات (Copter Barat)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader