Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

جھوٹی دھوم

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں بتایا گیا ہے کہ سوائی مادھو پور کی مینا برادری میں خوش حالی کی علامت اب یہ بن گئی ہے کہ بارات دلہن کے گھر آئے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ آئے، خواہ دولہا کے گھر سے دلہن کے گھر تک کا فاصلہ 10 کلومیٹر ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے پہلے شادیوں میں جہیز اور تلک کی دھوم تھی۔ اب اس سے آگے بڑھ کر ممبئی کی ایک فرم سے ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کیے جا رہے ہیں۔ شادیوں میں ہیلی کاپٹر کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے، اس کا جواب اخباری رپورٹر نے ان الفاظ میں دیا ہے: “The parents of the bride expect the 'barat' to reach their village with adequate pomp and show.” دلہن کے والدین امید کرتے ہیں کہ بارات ان کے گاؤں میں دھوم دھام کے ساتھ آئے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس کی سواری دولہا یا کسی دلہن کے گھر اترنے والی ہے۔ اس لیے وہ شان وشوکت کے ساتھ اپنی سواری لے جانے کا اہتمام کر رہا ہے۔ اگر انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کی سواری بالآخر جہاں پہنچنے والی ہے وہ مالکِ کائنات کی عدالت ہے تو انسان کی سوچ یکسر بدل جائے۔ اس کو معلوم ہو کہ شان والی شادی اور بے شان والی شادی میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی شخص اپنی قتل گاہ کی طرف دھوم مچاتا ہوانہیں جاتا۔ کوئی شخص ایک ایسی عدالت میں جشن کے ساتھ داخل نہیں ہوتا جہاں ایک با اختیار جج اس کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے بیٹھا ہوا ہو مگر اپنی آخری منزل کے بارے میں ہر آدمی اسی نادانی میں مبتلا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page