Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

جھوٹی دھوم

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیاب انسان وہ ہے جس کی سواری خدا کے یہاں با عزت طور پر اتاری جائے ۔ اور ناکام انسان وہ ہے جو خدا کے یہاں اس حال میں پہنچے کہ وہاں اس کی حیثیت ایک غیر مطلوب انسان کی ہو۔ وہاں نہ کوئی اس کا استقبال کرنے والا ہو اور نہ کوئی اس کی خبر گیری کرنے والا۔ صحابہ کی شادی دورِ اول میں شادی کوئی دھوم کی چیز نہ تھی۔ وہ ایک ایسی چیز تھی جس کو بس سادہ طور پر انجام دے لیا جائے۔ اس کے رسوم اور اس کے اخراجات اتنے مختصر ہوتے کہ وہ طرفین کے لیے کسی بھی اعتبار سے بوجھ نہ بنتے۔ صحابہ کے یہاں شادی کی تقریب ہر قسم کے تکلف اور نمائش سے بالکل خالی ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم بوجھ ہو (اِنَّ أَعْظَمَ النِّكَاحِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُ مُوْؤُنَةً) مسند احمد، حدیث نمبر 24529۔ اور کم بوجھ والا نکاح یقیناً وہ ہے جو اپنے موجودہ وسائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ ہوجائے، نہ کہ وہ جس کا تحمل اس کے وسائل نہ کر سکتے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا معاملہ آیا جس کا نکاح ایک خاتون سے طے ہوا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر دینے کے لیے کیا ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ نہیں۔ آپ نے دوبارہ پوچھا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اس کے بعد آپ نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تم جا کر کسی سے قرض لاؤ اور پھر اس کے ذریعہ سے نکاح کرو۔ بلکہ اگلا سوال آپ نے یہ کیا کہ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن ہے (قرآن کا کچھ حصہ تم کو یاد ہے) اس نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا جاؤ، میں نے قرآن کے اسی محفوظ حصہ کو مہر قرار دے کر اس خاتون کے ساتھ تمہارا نکاح کر دیا (اِذْهَبْ فَقَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page