Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ) صحیح البخاری ، حدیث نمبر 5149_ دوسری روایت میں ہے کہ اپنی بیوی کو قرآن کا وہ حصہ اسے سکھاؤ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1425)۔ مشہور صحابی حضرت عبدالرحمن بن عوف نے مدینہ میں شادی کی۔ اس وقت مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے مگر انہوں نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بڑے صحابہ کو اس موقع پر بلائیں۔ انہوں نے بس خاموشی سے ایک خاتون کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس سلسلہ میں امام احمد نے روایت نقل کی ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے : فَجَاءَ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْيَمْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: مَا أَصْدَقْتَهَا؟ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ( مسند احمد، حدیث نمبر 13863)۔ یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان کے اوپر زعفران کی خوشبو کا اثر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کر لیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کو کتنا مہر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونا۔ غلط رواج موجودہ زمانہ میں نکاح کی اصل اسلامی روح تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ مسلمانوں میں آج نکاح کا جو طریقہ عام طور پر نظر آتا ہے وہ اسلامی نکاح سے زیادہ رواج نکاح ہے۔ اس کا ایک نمونہ مہر ہے لڑکی والے عام طور پر مہر زیادہ باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد مرد کے مقابلہ میں عورت کے مفاد کی حفاظت ہے۔ ڈکشنری آف اسلام میں اس سلسلہ میں حسب ذیل الفاظ درج ہیں: The custom of fixing heavy dowers, generally beyond the husbands' means, especially in India, seems to be based upon the intention of checking the husband from

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page