غلط رواج
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
ill-treating his wife, and above all, from his marrying another woman, as also from wrongfully or causelessly divorcing the former. For in the case of divorce the woman can demand the full payment of the dower. (The Dictionary of IslAm by Thomas Patrick Hughes, 1979, p.91) بہت زیادہ مہر باندھنے کا رواج جو شوہر کے ذرائع سے زیادہ ہو، خاص طور پر ہندوستان میں، بظاہر اس مقصد سے ہے کہ شوہر کو اس سے روکا جائے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ وہ دوسری شادی نہ کر سکے۔ اور مزید یہ کہ وہ غلط طور پر یا بلا سبب اپنی بیوی کو طلاق نہ دے کیوں کہ طلاق کی صورت میں عورت پوری مہر کی ادائیگی کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ مذکورہ مقصد کے تحت مہر زیادہ باندھنا اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ نکاح کے موقع پر مہر تو مقرر کرنا ہے مگر اس کو ادا نہیں کرنا ہے۔ اگر نکاح کے ساتھ فوراً مہر ادا کر دیا جائے تو مانع طلاق یا اور کسی مانع کی حیثیت سے اس کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔ جب مہر خود باقی نہیں رہتا تو اس کے مانع ہونے کی حیثیت کیسے باقی رہے گی۔ مگر یہ مفروضہ سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں مہر کی جائز صورتیں صرف دو ہیں۔ ایک مہر معجّل، یعنی وہ مہر جو نکاح ہونے کے بعد اسی وقت ادا کر دیا جائے دوسرے مہر مؤجل، یعنی وہ مہر جس کو فوراً ادا نہ کیا جائے بلکہ اس کی ادائیگی بعد کو ہو۔ مگر یہ ’’بعد‘‘ لازمی طور پر متعین ہونا چاہیے۔ یعنی مرد اس کی ادائیگی کی ایک اجل (مدت) مقرر کرے اور اس مدت پر لازماً اس کو ادا کرے۔ تیسری مروجہ شکل (نکاح کے وقت ادائیگی مہر کی مدت مقرر نہ کرنا) ایک غیر شرعی طریقہ ہے۔ اس کی بنیاد پر جو کچھ کیا جائے وہ بھی یقیناً غیر شرعی ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader