کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
اب غور کیجئے کہ جب مہر کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ یا تو اس کو فوراً بوقت نکاح ادا کر دیا جائے یا نکاح کے وقت ایک متعین مدت مقرر کی جائے اور اس متعین مدت پر اس کو ضرور ادا کر دیا جائے تو ایسی صورت میں طلاق کو روکنے کے لیے زیادہ مہر مقرر کرنا بالکل بے معنی ہے۔ صرف وہی مہر مانع کا کام کرسکتی ہے جو بلا تعین مدت مقرر کی جائے۔ مگر یہ خود اسلامی طریقہ کے مطابق نہیں۔ مہر کے لیے ادائیگی کی مدت تعیین اپنے آپ اس کو اس اعتبار سے بے اثر کر دیتی ہے کہ وہ مرد کے لیے مانع طلاق کا کام دے۔ مہر کا مسئلہ معاشرتی زندگی میں اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان ایک متوازن تقسیم قائم کی ہے۔ یہ تقسیم عمل کے اعتبار سے ہے۔ اسلام نے دونوں صنفوں کے درمیان ایک واضح تقسیم عمل کو ملحوظ رکھا ہے۔ اسلام کے مطابق، گھر کو سنبھالنے کی ذمہ داری بنیادی طور پر عورت کے اوپر ہے اور مالیات کی فراہمی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے اوپر ۔ تقسیم کار کا یہ اصول جن نصوص سے نکلتا ہے ان میں سے ایک قرآن کی یہ آیت ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (4:34)۔ یعنی، مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال سے خرچ کیا۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرنے والی ہیں اللہ کی حفاظت سے۔ ہر گھر ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ اس ریاست کا ایک مسئلہ اس کا اندرونی نظام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader