Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اور اس کا دوسرا مسئلہ اس کا مالیات (بالفاظ دیگر، خارجی اسباب حیات کی فراہمی) ہے۔ عورت اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے پہلے کام کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اور مرد اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے دوسرے کام کی زیادہ بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اسلام کی معاشرتی اور انتظامی تقسیم میں یہ کیا گیا ہے کہ گھر کے داخلی امور کی ذمہ داری بنیادی طور پر عورت پر ڈالی گئی ہے۔ اور گھر کے خارجی امور اور مالیاتی کی فراہمی کی ذمہ داری بنیادی طور پر مرد کے اوپر ہے۔ نکاح کے وقت ایک مرد مہر کے نام سے جو رقم اپنی بیوی کے حوالے کرتا ہے اس کا تعلق اسی خاص پہلو سے ہے۔ اسلام کے مطابق چوں کہ مرد اصولی طور پر عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اس لیے جب وہ ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ نکاح کے ساتھ اس ذمہ داری کو قبول کرتا ہے کہ وہ عورت کے تمام ضروری اخراجات کی کفالت کرے گا۔ مہر اسی کی ایک علامت ہے۔ مرد اپنی بیوی کو مہر کے طور پر ایک علامتی رقم ادا کر کے عمل کی زبان میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی مالیاتی کفالت کی ذمہ داری لے رہا ہے۔ مہر کی اصل حیثیت یہی ہے۔ مہر معجل مہر اصطلاحی طور پر اس رقم (یا کسی متعین چیز) کا نام ہے جو ایک مرد نکاح کے وقت اپنی بیوی کو ادا کرتا ہے۔ اس مہر کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے ۔ مہر کی اس قسم کو مہر معجل کہتے ہیں۔ معجل کا لفظ عجلت سے بنا ہے۔ یعنی جلد یا بلا تاخیر ادا کی جانے والی مہر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانہ میں عام رواج مہر معجل ہی کا تھا۔ وہ لوگ مختصر مہر باندھتے اور نکاح کے وقت ہی اس کو ادا کر دیتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page