مہر معجل
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی ابن ابی طالب سے کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں اس کا ایک جز مہر کے بارے میں ہے۔ نکاح کی بات طے ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ ہے: فَقَالَ وَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّهَا بِهِ؟ فَقُلْتُ: لَا، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّه. فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ دِرْعَ سَلَّحْتَكَهَا - فو الذي نفسُ عَلِيّ بيدِهِ إِنَّهَا لَحُطَمِيَّةٌ مَا ثَمَنُهَا أَربَعَةَ دَرَاهِمَ - فَقُلْتُ عِندِي فَقَالَ قَدْ زَوَّجْتُكَهَا فَابْعَثْ إِلَيْهَا بِهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهَا . فَإِنْ كَانَتْ لِصَدَاقِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ( دلائل النبوۃ للبیہقی ، جلد 3، صفحہ (160 ) ۔ یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، کیا تمہارے پاس کوئی چیز (بطور مہر ) ہے جس کے ذریعہ تم فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو۔ میں نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم اے خدا کے رسول۔ آپ نے کہا کہ وہ زرہ کیا ہوئی جو میں نے تم کو دی تھی ۔ (حضرت علی کہتے ہیں کہ ) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں علی کی جان ہے، وہ زرہ ٹوٹ چکی تھی ، اس کی قیمت چار درہم بھی نہ تھی۔ پس میں نے کہا کہ وہ میرے پاس ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے تمہارا نکاح فاطمہ سے کر دیا تو اس زرہ کو فاطمہ کے پاس بھیج دو اور اس کے ذریعہ فاطمہ کو اپنے لیے جائز کرو۔ تو یہ تھا فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر۔ حضرت ربیعہ اسلمی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ربیعہ تم نکاح کیوں نہیں کر لیتے ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں۔ یہ سوال و جواب کئی بار ہوا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader