کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
فلاں قبیلہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بھیجا ہے اور کہا ہے کہ تم فلاں عورت سے میرا نکاح کر دو۔ چنانچہ میں نے جا کر کہا اور انہوں نے میرا نکاح کر دیا۔ مگر مجھے یہ غم تھا کہ میرے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں۔ میں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ، اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ: فَجَمَعُوا لِي وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذْتُ مَا جَمَعُوا لِي فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ”اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ: هَذَا صَدَاقُهَا“، فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: هَذَا صَدَاقُهَا فَرَضُوْهُ وَقَبِلُوْهُ، وَقَالُوْا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ ( مسند احمد، حدیث نمبر 16577 )۔ یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے سردار بریدہ اسلمی سے کہا کہ اے بریدہ، تم لوگ اس کے لیے ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا جمع کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے میرے لیے ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا جمع کیا پھر میں نے جو کچھ انہوں نے جمع کیا تھا لیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو لے کر ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ یہ اس کا مہر ہے۔ پھر میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ یہ اس کا مہر ہے انہوں نے قبول کیا اور راضی ہو گئے انہوں نے کہا کہ بہت ہے، اچھا ہے۔ مہر مؤجل مہر کی دوسری صورت یہ ہے کہ مرد یہ وعدہ کرے کہ وہ اتنی مدت میں اس کو ادا کر دے گا اس دوسری قسم کی مہر کا شرعی نام مہر مؤجل ہے۔ مؤجل کا لفظ اجل ( مدت ) سے بنا ہے۔ مہر مؤجل کا مطلب یہ ہے کہ وہ مہر جس کی ادائیگی کے لیے ایک وقت اور ایک مدت مقرر کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader