کامیاب خاندانی زندگی
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
دی جائے۔ اگر بوقت نکاح فوراً مہر ادا نہ کیا جا رہا ہو تو اسی وقت اس کی ادائیگی کی مدت کی تعین ضروری ہے۔ مہر موجل کی ایک مثال حضرت موسیٰ کے نکاح میں ملتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے نکل کر مدین پہونچے تو وہاں انہوں نے حضرت شعیب کی صاحبزادی (صفورا) سے نکاح کیا۔ یہ نکاح مہر مؤجل پر ہوا تھا۔ نکاح کی مہر فریقین کی رضا مندی سے یہ قرار پائی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بوڑھے خسر حضرت شعیب کی بکریاں چرائیں۔ اس گلہ بانی کی اجل (مدت) کم سے کم آٹھ سال زیادہ سے زیادہ دس سال تھی۔ اس کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح ہوا اور پھر انہوں نے دس سال تک حضرت شعیب کے گھر پر خدمت کی۔ اس طرح مہر مؤجل کو پورا کر کے وہ دوبارہ مدین سے مصر کے لیے روانہ ہوگئے۔ (القصص، 28:27-28) مہر مؤجل کسی قسم کے غیر متعین مہر کا نام نہیں ہے۔ شرعی اعتبار سے مہر مؤجل وہ ہے جس کی ادائیگی کی اجل (مدت) بوقت نکاح طے ہو اور وہ اپنے مقررہ وقت پر پوری طرح ادا کر دی جائے۔ فقہاء کی رائے مہر کا اصل شرعی طریقہ یہ ہے کہ اس کو نکاح کے وقت فوراً ادا کر دیا جائے۔ اسی پر اکثر صحابہ کا عمل رہا ہے۔ گویا اصل مہر وہی ہے جو مہر معجّل ہو۔ مہر کی دوسری قسم (مہر مؤجل) دوسرا برابر درجہ کا طریقہ نہیں۔ یہ صرف رخصت کا طریقہ ہے۔ اصلاً مہر کی ایک ہی قسم ہے، اور وہ فوراً ادا کر دینا ہے، تاہم بطور رخصت یہ دوسرا طریقہ بھی رکھا گیا ہے تا کہ آدمی حسب ضرورت نکاح کے بعد بھی مقرر مدت پر اس کو ادا کر کے بری الذمہ ہو سکے۔ مہر کے بارے میں تفصیلی ابواب فقہ کی کتابوں میں آئے ہیں۔ عبدالرحمن الجزیری کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader